سمارٹ بننے کے طریقے

سمارٹ بننے کے طریقے :
اگلے ماہ سیما کی سہیلی کا بیاہ تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ بہ موقع شادی اسمارٹ اور خوبصورت نظر آئے۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ پچھلے ایک برس میں غذائی بے احتیاطی کے باعث وہ خاصی موٹی ہو گئی تھی۔ سو وہ دنیائے انٹرنیٹ پہنچی اور ایسا ڈائٹ پلان تلاش کرنے لگی جو اُسے چند ہفتوں میں دبلا پتلا بنا دے۔ آخر سیما نے اٹکنز (Atkins) نامی غذائی منصوبہ اپنانے کا سوچا۔ یہ ڈائٹ پلان 1972ء میں امریکی ماہر غذائیات، جان اٹکنز نے متعارف کرایا تھا۔ اسی منصوبے میں کم کاربوہائیڈریٹ رکھنے والی غذائیں کھائی جاتی ہیں۔ سو سیما نے روٹی سالن کھانا چھوڑا اور صرف پھل و سبزیوں سے پیٹ بھرنے لگی۔ لیکن ہزاروں لاکھوں لڑکیوں کے مانند سیما نہیں جانتی تھی کہ اٹکنز ڈائٹ پلان ہر کسی کو فائدہ نہیں پہنچاتا، بلکہ اُسے بے سوچے سمجھے اپنایا جائے، تو الٹا مضر صحت بنا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے سیما کے ساتھ یہی ہوا۔ کاربورہائیڈیٹ کے بغیر غذا کھانے سے وہ ٹینشن اور ڈپریشن کا شکار ہو گئی۔
سو وہ اسمارٹ کیا ہوتی، بیمار ہو کر ہسپتال پہنچ گئی۔ ڈائٹ پلانوں کی بھرمار فربہ مرد و زن جب بھی دبلا پتلا ہونے کی خواہش کریں، تو سب سے پہلے انھیں یہی خیال آتا ہے کہ کوئی عمدہ غذائی منصوبہ اختیار کیا جائے۔ گویا یہ کوئی طلسماتی چھڑی ہوئی جو انھیں راتوں رات اسمارٹ بنا دے گی۔ حالانکہ بیشتر ڈاکٹروں کا اتفاق ہے: ’’90فیصد کیسوں میں یہ ڈائٹ پلان ناکام ثابت ہوتے ہیں یا پھر فرد کو عارضی کامیابی ہی ملتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ طرز زندگی کو بدلے بغیر کوئی انسان دبلا پتلا اور چُست نہیں ہوسکتا۔‘‘ دنیا بھر میں مرد و زن ڈائٹ پلانوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے، ہر سال کوئی نہ کوئی نیا غذائی منصوبہ سامنے آتا ہے۔ مثلاً آج کل پاکستان میں ’’میڈی ٹرینین (Mediterranean)‘‘ ڈائٹ کا خاصا رواج ہے۔ اس پر عمل کرنے والے مخصوص پھل و سبزیاں کھا کر پیٹ بھرتے ہیں۔ درج بالا ڈائٹ پلان کے حمایتی کہتے ہیں کہ میڈی ٹرینین (بحیرہ روم کے) ممالک کو دیکھیے۔
وہاں لوگ زیادہ تر پھل سبزیاں کھاتے اور سدا چاق چوبند رہتے ہیں۔ مگر دیگر غذائی منصوبوں کی طرح اِسے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ چونکہ فربہ مرد و زن اسمارٹ ہونے کی خاطر ہر حربہ آزماتے ہیں، لہٰذا پچھلے ایک عشرے میں عجیب و غریب موٹاپا توڑ پلان سامنے آچکے ہیں۔ مثال کے طور پر کے۔ ای ڈائٹ (K.E.Dite)۔ اس منصوبے میں انسان کئی روز تک کچھ نہیں کھاتا۔ بس ناک میں لگی ایک نالی کے ذریعے اس کے معدے تک براہِ راست غذا پہنچائی جاتی ہے۔ یوں غذا شکم میں داخل نہیں ہوپاتی۔ اسی طرح ’’ٹیپ ورم ڈائٹ‘‘(Tapeworm diet)بھی انوکھی ہے۔ اسے اپنانے والے مرد و زن کھانے کے بعد کیچوے ہڑپ کرتے ہیں… تاکہ وہ پیٹ میں موجود ساری غذا کھا جائیں۔ غذائی منصوبہ استعمال میں آسان ہو یا مشکل، انھیں تشکیل دینے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کو برتنے سے کم از کم 8کلو وزن ضرور کم ہوتا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ ان منصوبوں کے علاوہ ’’ڈائٹ فوڈ‘‘ دبلا کرنے والی غذائوں) کی بہت بڑی مارکیٹ وجود میں آچکی۔ ڈائٹ غذائیں بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ انھیں کھانے یا پینے سے چربی گھلتی اور وزن کم ہوتا ہے۔ یہ دعویٰ سچا ہے یا جھوٹا، یہ تو انھیں استعمال کرنے والے بہتر جانتے ہیں۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ وزن کم کرنے کا عالمی کاروبار پھل پھول رہا ہے۔
2012ء میں اس کاروبار کی مالیت ’’265ارب ڈالر‘‘ تھی اور خیال ہے کہ 2017ء تک ’’361ارب ڈالر‘‘ تک پہنچ جائے گی۔ یہ یقینا خطیر رقم ہے۔ وزن گھٹانے کا بزنس کئی وجوہ سے نشو و نما پا رہا ہے۔ سرفہرست یہ وجہ ہے کہ بہرحال لاکھوں لوگوں کو دور جدید کی بیماریاں… ذیابیطس، امراض قلب اور ہیپا ٹائٹس وغیرہ دبوچ لیتی ہیں۔ پھر ذاتی آمدن میں اضافہ اور صحت سے متعلق بڑھتی آگاہی بھی اہم وجوہ ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ مرد و زن کی اکثریت یہ جانے بغیر اپنا وزن گھٹانے کی سر توڑ کوشش کرنے لگتی ہے کہ وہ موٹاپے کا نشانہ کیوں بنے؟ حقیقت یہ ہے کہ جیسے ہر انسان مختلف ہے، اسی طرح وہ متفرق وجوہ کی بنا پر فربہ ہوتا ہے۔ گو مضر صحت معیار زندگی، ورزش کی کمی اور ضرورت سے زیادہ کھانا فربہی پیدا کرنے کی اہم وجوہ ہیں، لیکن دیگر عناصر بھی اُسے پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کئی مرد نیند کی کمی سے فربہ ہوجاتے ہیں۔ جبکہ بہت سی خواتین میں پریشانی موٹاپے کا منبع ہوتی ہے۔ جدید طبی سائنس دریافت کر چکی کہ جب ہمارا بدن نیند سے محروم یا پریشانی کا شکار ہو، تو وہ چربی جمع کرنے لگتا ہے۔
یوں ہمارا جسم نیند یا پریشانی سے پیدا ہونے والے مسائل کا مقابلہ کرنے کی خاطر تیاری کرتا ہے۔ سو انسان جسمانی طلب پوری کرنے کے لیے مزید کھاتا اور یوں موٹا ہوتا چلا جاتا ہے۔ چالیس پچاس سال کی عمر میں جب خواتین سن ساس کا نشانہ بنیں، تو ہارمونی تبدیلیاں ان کا وزن بڑھا دیتی ہیں۔ دراصل اس دوران ان میں اسٹروجن ہارمون کی پیدائش بہت کم ہوجاتی ہے جو شکم پر چربی جمع نہیں ہونے دیتا۔ مزیدبرآں بعض بیماریوں سے اور کچھ ادویہ استعمال کرنے سے بھی وزن گھٹ جاتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزن گھٹانے کا عمل بھی خاصا پیچیدہ ہے۔ بعض ڈائٹ پلان ایک کو فائدہ دیتے تو دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ بعض مرد و زن کا وزن ہمیشہ کے لیے کم ہوجاتا ہے۔ دیگر جیسے ہی منصوبہ ختم کریں، پھر فربہ ہونے لگتے ہیں۔ اسی باعث کئی ڈاکٹر اور ماہرین غذائیات ان ڈائٹ پلانوں کو بے فائدہ سمجھتے ہیں۔ ایک پاکستانی ماہر غذائیات، سلیم رضا کا کہنا ہے: ’’ہمارے روایتی کھانے بہترین ڈائٹ منصوبہ ہیں۔ کیونکہ وہ نہ صرف ہلکے ہوتے ہیں بلکہ ان میں غذائیت بھی موجود ہوتی ہے۔ سلیم رضا مزید کہتے ہیں: ’’چاق چوبند رہنے کا راز یہ ہے کہ اعتدال سے کھانا کھایا جائے۔ ہر غذا اعتدال میں کھائیے، لقمہ آہستہ آہستہ چبائیے اور باقاعدگی سے ورزش کیجیے۔ زیادہ تر مرد و زن اسی لیے فربہ ہوتے ہیں کہ وہ ردی غذا کھاتے ہیں اور ورزش بالکل نہیں کرتے۔‘‘ پچھلے چند عشروں میں وزن گھٹانے سے متعلق دیومالائی باتیں بھی وجود میں آ چکی ہیں۔ آپ کے لیے ان کا جاننا ضروری ہے تاکہ خود کو تندرست رکھ سکیں۔ ذیل میں ایسی نو باتوں کو بیان کیا جا رہا ہے جو بظاہر سچی لیکن حقیقت میں لغو ہیں۔
(1)پروٹین سے بھر پور اور کم کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں کھانے سے وزن گھٹتا ہے مغربی ممالک میں ’’اٹکنز پلان‘‘ کو بہت کامیابی ملی کیونکہ وہاں ڈبل روٹی، پاستا، پیزا، کیک، برگر وغیرہ پر مشتمل غذا کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین کے مابین توازن نہیں رکھتی۔ جبکہ سبزی، دال اور چاول پر مبنی غذائیں پروٹین، کاربوہائیڈریٹ اور ریشے کا بہترین توازن رکھتی ہیں۔ رجوتا ڈائیوکر بھارت کی مشہور ماہر غذائیات ہے۔ چند برس قبل اس کی کتاب ’’اپنا ذہن مت کھوئیے‘‘ (Don’t lose your mind)شائع ہوئی جس نے بہت شہرت پائی۔ اس میں رجوتا نے لکھا کہ انسان جب کم کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں کھائے (اٹکنز ڈائٹ پر چلتے ہوئے) ، تو اس کی روز مرہ زندگی اور سوچنے کی طاقت متاثر ہوتی ہے۔ دراصل جدید طبی تحقیق سے دریافت ہوا ہے کہ اگر کم کاربوہائیڈریٹ والی غذا کھائی جائے، تو ہمارے بدن میں’’ سیروٹونین‘‘(Serotonin)کی افزائش رک جاتی ہے۔ دماغ میں جنم لینے والا یہ نیورو ٹرانسمیٹر ہی ہم میں خوشی، اطمینان اور سکون کے نہایت قیمتی محسوسات پیدا کرتا ہے۔ امریکا میں مستعمل ’’سائوتھ بیچ ڈائٹ‘‘ بھی کم کاربو ہائیڈریٹ غذائوں والا غذائی پلان ہے۔ یہ پلان خصوصاً خواتین کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔ جو خاتون شدو مد سے اسی منصوبے پر عمل کرے، وہ بے چینی، ڈپریشن اور گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔ وجہ یہی ہے کہ کم کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں کھانے سے جسم میں نسوانی ہارمونوں کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ سو اگر آپ فربہ ہیں، تو کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں اعتدال میں کھانا جاری رکھیے۔ البتہ یہ کوشش کیجیے کہ کم سے کم کاربوہائیڈریٹ ردی غذا سے لیے جائیں۔ ثابت اناج ان کا عمدہ ذریعہ ہیں۔
(2)آٹھ بجے کے بعد کھانا مت کھائیے عام خیال یہ ہے کہ سونے سے تین گھنٹے قبل کھانا کھا لیا جائے، تو بہتر ہے۔ یوں جسم کو کھانا ہضم کرنے کی خاطر مناسب وقت مل جاتا ہے۔ لیکن جو مرد و زن رات گئے تک یا نائٹ شفٹ میں کام کرتے ہیں، انھیں کیا نظام الاوقات اپنانا چاہیے؟ دراصل جب ہم کام کریں اور چلیں پھریں، تو ہمارے جسم کو توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا چھے سات بجے آخری کھانا کھانے کے بعد انسان ساری رات بھوکا نہیں رہ سکتا۔ لہٰذا اگر آپ رات کو کام کرتے ہیں، ہر دو تین گھنٹے بعد کوئی پھل یا ہلکی پھلکی غذا کھالیں۔ یوں آپ کا پورا جسمانی نظام درست طریقے سے کام کرتا رہے گا۔ مزید برآں صبح کم از کم سات گھنٹے کی نیند لینا مت بھولیے گا۔
(3)ڈائٹنگ کے دوران کیلا، آم، انگور اور چیکو نہ کھائیں! بیشتر ڈائٹ منصوبوں میں فرد کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ درج بالا پھل ہرگز نہ کھائے۔ مگر یہ پلان بنانے والے بھول جاتے ہیں کہ یہ سبھی پھل غذائیت بخش ہیں۔ سو عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ڈائٹنگ کرنے والا ان پھلوں کو اپنی روز مرہ غذا میں اس ترکیب سے شامل کرے کہ حراروں (کیلوریز) کی مقررہ تعداد بڑھنے نہ پائے۔ مثال کے طور صبح آدھا کیلا کھانے سے آپ کو اتنی توانائی ملے گی کہ بخوبی ورزش کر سکیں۔ اسی طرح آم وٹامن اے اور صحت دوست کیمیائی مادوں، فلاونوئیڈز (Flavonoids)مثلاً بیٹا کروٹین، الفاکروٹین اور بیٹاکراپٹو زینتھین کا منبع ہے۔ یہ سبھی انسان کی بصارت کو طاقت ور بناتے ہیں۔ چیکو بھی بڑا غذائیت بخش پھل ہے۔ یہ ہمیں فولاد، پوٹاشیم، تانبا، فولیٹ، نائسین اور ہانٹو تھینک ایسڈ فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا ڈائٹنگ کرتے ہوئے ان پھلوں کا استعمال مت چھوڑئیے، البتہ کم کرسکتے ہیں۔
(4)وزن کم کرنے کے لیے بادشاہ کی طرح ناشتا کرو اور فقیر کے مانند رات کا کھانا کھائو درج بالا نظریہ فرسودہ ہوچکا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ صبح ازحد غذا کھانے سے معدے پہ بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ انسان پھر سارا دن گرانی میں گزارتااور پریشان رہتا ہے۔ اس باعث ماہرین غذائیات مشورہ دیتے ہیں کہ ناشتا اقساط میں کیجیے۔ مثال کے طور پر سب سے پہلے پھل کھائیے۔ پھر ڈبل روٹی یا رس چائے کے ساتھ کھائیے۔ بعدازاں آپ دفتر پہنچ کر یا گھر ہی میں انڈا یا دودھ استعمال کرسکتے ہیں۔ یوں معدے پربوجھ نہیں پڑتا اور انسان ہلکا پھلکا رہتا ہے۔ اقساط میں ناشتا کرنے یا کھانا کھانے کے پیچھے یہ فلسفہ پوشیدہ ہے کہ انسان سیر نہ ہو۔ لیکن ضروری ہے کہ یہ چھوٹے کھانے بھرپور نہ ہوں… یعنی ان میں سبزی و پھل زیادہ اور کاربوہائیڈریٹ والا اناج کم ہو۔ ورنہ موٹاپا ختم کرنا محال ہوجاتا ہے۔
(5)سخت ورزش سے زیادہ کھانے کے اثرات ختم کیے جاسکتے ہیں ماضی میں ماہرین غذائیت وزن گھٹانے والوں کو یہ مشورہ دیتے تھے کہ زیادہ کھانے کی صورت میں سخت ورزش کریں۔ مثلاً آپ نے 350حراروں والی پیسٹری کھائی، تو آدھ گھنٹا ورزش کرنے سے آپ حاصل ہونے والے حرارے جلا ڈالیں گے۔ مگرجدید تحقیق اس نظریے کو باطل قرار دے چکی ہے کیونکہ زیادہ کھانے کے مضر اثرات سخت ورزش سے دور نہیں کیے جاسکتے۔ الٹا جسم کو شکست و ریخت کا شکار بناتی ہے اور جوڑ مَتورم کر دیتی ہے۔ گویا طویل عرصہ سخت ورزش کرنا انسانی بدن کو نقصان پہنچانا ہے۔ دراصل جب ہم ورزش کریں، تو ہمارا جسم اینڈوفینز (Endophins)نامی کیمیائی مادے خارج کرتاہے۔ یہ کیمیائی مادے ہم میں خوش گواری کا احساس پیدا کرتے ہیں جوا نسان باقاعدگی سے ورزش کرنے لگے، اُسے پھر اس احساسِ خوش گواری کی لَت پڑ جاتی ہے۔ ڈاکٹر عالیہ کراچی کے ایک گائنی کلینک سے متعلق ماہر نفسیات ہیں۔ پچھلے ماہ ان کے پاس ایک حاملہ لڑکی آئی جو ڈپریشن میں مبتلا تھی۔ اس کی طبی ہسٹری سے انکشاف ہوا کہ لڑکی ورزش کرنے کی شوقین تھی۔ چناںچہ وہ جمِ میں دیر تک مصروف رہتی۔ پہلے ایک گھنٹا ایروبک ورزش کرتی پھر ڈیڑھ گھنٹے تک وزن اُٹھاتی۔ ڈاکٹر عالیہ کا کہنا ہے: ’’لڑکی نے مجھے یہ بھی بتایا کہ وہ اکثر دن میں دو مرتبہ بھی جم جاتی ہے۔ جب وہ میرے پاس آئی، تو اُسے دو ماہ کا حمل تھا اور ڈاکٹرنی نے اس کو ہدایت کی تھی کہ وہ آرام کرے۔ چونکہ وہ شدید جسمانی ورزش کی عادی تھی لہٰذا یہ سرگرمی اُسے نہ ملی، تو بے چین ہوگئی۔ اینڈوفینز کی عدم موجودگی نے اُسے ہلکے ڈپریشن کا نشانہ بنا دیا۔‘‘ سو سخت ورزش سے بچنے کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ غذا معتدل مقدار میں کھائیے۔ یوں آپ نہ صرف موٹاپے سے بچیں گے بلکہ جان توڑ ورزش بھی نہیں کرنا پڑے گی۔
(6) دعوت سے لطف اندوز ہونے کی خاطر ایک وقت کا کھانا نہ کھائیے وزن بڑھنے سے خوفزدہ کئی مرد و زن درج بالا روش اختیار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر رات کو شادی کی دعوت ہے، تو وہ دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے۔ وجہ یہ ہے کہ ایک وقت کا ناغہ کرنے کے بعد انسان عموماً زیادہ کھانا کھا جاتا ہے۔ اس ضمن میں لاہور کے ایک ماہر غذائیات، سہیل اکمل کہتے ہیں: ’’ انسان جب غذا کھائے، تو ہمارا بدن اس میں سے مطلوبہ غذائیت استعمال کرتا اور بقیہ محفوظ کر لیتا ہے۔ لیکن جب جسم کو ایک وقت کا کھانا نہ ملے، تو وہ گھبراہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی لیے انسان جیسے ہی کھانا کھائے، وہ اس کا بیشتر حصہ مستقبل کی خاطر ذخیرہ کر لیتا ہے۔ چناںچہ بدن پر غیر ضروری چربی کی تہیںچڑھ جاتی ہیں۔ سو کسی تقریب کی خاطر کھانے کا ناغہ نہ کیجیے، ورنہ یہ عمل آپ کو فربہ بنا سکتا ہے۔ بلکہ بہتر یہ ہے کہ دعوت میں جانے سے پہلے پیٹ بھر کر پانی پی لیجیے۔ یوں دعوت میں پیٹ بھر کر کھانے سے بچ جائیں گے۔
(7)بدیسی غذا اچھی ہے امیر مرد و زن یہ سوچ کر نہایت مہنگی امپورٹڈ غذائیں کھاتے ہیں کہ وہ زیادہ غذائیت بخش ہوتی ہیں۔ لیکن پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر دستیاب تمام غذائیں انسانی جسم کو دستیاب غذائیت رکھتی ہیں۔ لہٰذا متوسط طبقے کو بدیسی غذائیں خریدنے کی خاطر اپنی جیب ہلکی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
(8) وزن کم کرنے کی خاطر غذا کا کردار سب سے اہم ہے ایک تحقیقی جائزے سے اِنکشاف ہوا کہ وزن کم کرنے والوں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے، غذا میں ردوبدل کرنے سے انھیں کامیابی مل جائے گی۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ معتدل ورزش کے بغیر وزن کم کرنا کٹھن مسئلہ بن جاتا ہے۔ دراصل انسان جب کم کھانے لگے اور ورزش نہ کرے تو اس کے عضلات لٹک جاتے ہیں۔ عضلات کو سخت رکھنے کے لیے روزانہ 30منٹ کی ورزش ضروری ہے۔ مثلاً تیز چلنا یا دوڑنا۔ یوں کم کھانے سے چربی گھلنے کے باعث عضلات نہیں لٹکتے اور اپنی سختی قائم رکھتے ہیں۔
(9)پانی ہی نہیں رس، چائے، کافی، یخنی بھی پی جاسکتی ہے وزن کم کرنے کے سلسلے میں ماہرین سبھی کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ دن میں زیادہ سے زیادہ پانی پئیں۔ لیکن بیشتر لوگ پھلوں یا سبزیوں کا رس، یخنی، چائے، کافی حتیٰ کہ بوتل پی کر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مائع جات بھی پانی کے زُمرے میں آتے ہیں۔ حالانکہ کوئی بھی مائع‘ پانی کا بدل نہیں ہو سکتا، خصوصاً انسان جب اپنا وزن کم کرنا چاہے۔ غیر مضر حرارے رکھنے والا پانی ہمارے بدن کو زہریلے مادوں سے پاک صاف کرتا اور غذائوں میں شامل معدنیات و حیاتین (وٹامن) کو بدن میں جذب کرتا ہے۔ مزیدبرآں ہمارے نظام ہضم کو پانی پروسیس کرنے کے لیے سخت تگ و دو بھی نہیں کرنا پڑتی۔ سو خصوصاً چائے کافی پانی کے نعم البدل کبھی نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا جب ماہر غذائیات وزن کم کرنے کے ضمن میں آپ کو پانی زیادہ پینا بتائے، تو اس سے مراد کوئی اور مائع نہیں صرف اور صرف پانی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *